کتاب لمعہ اول تجدیدی سوال وجواب 2023
نجاست کے بحث میں فرماتے ہیں و من النجاسات الفقاع۔۔۔۔۔۔۔۔۔فی حکمه حیث یذکر
سوال نمبر 1
عبارت من النجاسات۔۔۔۔۔اشتباہ حاله کے مطالب کی مکمل وضاحت کیجئے الاصل سے کیا مراد ہے خاصیته میں خاصیت سے کیا مراد ہے اس کی ضمیر کا مرجع کیا ہے نیز حاله کی ضمیر کا مرجع کیا ہے
جواب
مذکورہ عبارت میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ فقاع بھی نجس ہے اور فقاع میں اکثر یہ ہے کہ وہ آب جو سے بنائی جاتی ہے لیکن چونکہ حکم نجاست فقاع تعلق رکھتا ہے اسم فقاع پر لہٰذا یہ حکم ہے نجاست ثابت ہر اس چیز کے لیے جس پر اس فقاع کا نام صادق آتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ اس پر فقاع کی شبہات موجود ہو اور الاصل سے مراد غالب اور شائع مراد ہے اور خاصیته سے مراد خاصیت نشی آور چیزیں ہیں اور ابلنا ہے اور ضمیر کا مرجع فقاع ہے اور حاله کی ضمیر کا مرجع بھی فقاع ہے
سوال نمبر 2
مصنف نے یہاں پر نجاسات ساتھ میں سے عصیر عنبی کو کیوں شمار نہیں کیا شہد ثانی نے اس پر کیا اشکال کیا ہے عبارت و کونه۔۔۔ کتبه میں کیا کہنا چاہتا ہے عبارت لایقتضه کے مطالب کو مکمل طور پر بیان کیجئے
جواب
مصنف نے یہاں پر نجاسات ساتھ میں سے عصیر عنبی کو اس لیے شمار نہیں کیا ہے کہ مصنف مطلع نہیں ہوئے ایسی دلیل سے جو تقاضا کرتی عصیر عنبی کے نجاست کا جیسا کہ خود مصنف نے اعتراف کیا ہے دلیل نہ ہونے کے بارے میں اپنی کتاب ذکرہ اور بیان میں ۔اس پر اشکال یہ ہے کہ شاید مصنف کا عذر یہ ہو کہ عصیر عنبی بھی نجاست کے اعتبار سے حکم مسکر میں ہے جب مصنف نے مسکر کو بیان کیا ہے تو پھر عصیر عنبی کو بھی ذکر کرنا لازمی نہیں اور عبارت و کونه۔۔۔ کتبه میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ عصیر عنبی کا حکم مسکر میں ہونا جس طرح کہ مصنف اپنے بعض کتب میں بیان کیا ہے تقاضا نہیں کرتا عصیر عنبی کے داخل ہونے کا مسکر میں۔ اور عبارت لایقتضه میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ جب لفظ مسکر کو بطورِ مطلق بیان کیا جائے اگرچہ عصیر عنبی داخل ہے حکم مسکر میں جب ۔فی حکمه۔ کو ذکر کیا جائے اور کہا جائے مسکر اور جو مسکر کے حکم میں ہے
تیمم کی بحث میں فرماتے ہیں کہ و لو تمکن من استعمال الماء انتقض ۔۔۔۔۔۔۔۔سواء شرع فیھا أم لا
سوال نمبر 3
و لو تمکن ۔۔۔۔۔۔ کذا الغسل میں مذکور مسئلہ کی مثالوں سمیت مکمل وضاحت کیجئے اور بتائیے غیر الغسل الجنابت کی قید کیوں لگائی گئی ہے من الوضو کس کے متعلق ہے نیز انتقض تیممه کی ضمیر کا مرجع کیا ہے
جواب
اگر تیمم کرنے کے بعد عذر برطرف ہو جائے اور پانی استعمال کرنے پر قدرت حاصل کر لے تو باطل ہو جائے گا اس کا تیمم اس طہارت کے بدلے میں کہ جس طھارت پر قدرت حاصل ہوئی ہے مثال طور اگر غسل کے بدلے میں تیمم کیا تھا تو باطل ہو جائے گا اسی طرح وضو بھی باطل ہو جائے گا
غیر الغسل الجنابت کی قید اس لیے لگائی گئی ہے کیونکہ جس پر غسل جنابت واجب ہو اور وہ غسل نہ کر سکے تو اس پر غسل کے بدلے میں فقط ایک تیمم واجب ہے یعنی وضو کے بدلے میں تیمم واجب نہیں ہے لہذا ایسا شخص اگر قدرت حاصل کرلے وضو پر تو اس کا تیمم باطل نہیں ہوگا اور ہے من الوضو متعلق ہے فعل تمکن کے اور انتقض تیممه کی ضمیر کا مرجع ہے تیمم جو وضو کے بدلے میں کیا ہے
سوال نمبر 4
عبارت والحکم۔۔۔۔۔۔۔ کے مطالب کی مکمل وضاحت کیجئے اما انتفاضه مطلقاً میں مطلقاً سے کیا مراد ہے نیز قبله فیھا کی ضمیروں کا مرجع کیا ہے
جواب
عبارت والحکم میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ ہم نے جو کہا کہ تیمم باطل ہو جائے گا فقط وہ وضو یا غسل پر قدرت حاصل ہونے کی وجہ سے یہ حکم ظاہری ہے حکم واقعی نہیں ہے لیکن تیمم باطل ہو جائے گا مطلقا یہ مشروط ہے کہ اتنا وقت گزرنے کے ساتھ جو وسعت رکھتا ہو طہارت کو پانی کے ساتھ انجام دینے کے لیے اس حال میں کہ اس وقت میں کوئی عذر نہ ہو جس سے وہ پانی کو استعمال نہ کر سکتا ہو اگر عذر عارض ہو جائے یعنی قدرت حاصل ہونے کے بعد کوئی مانع آ جائے مذکورہ وقت گزرنے سے پہلے تو اس عذر کا آنا سبب بنے گا کہ وہ تیمم باطل نہیں ہوگا چاہے وضو یا غسل کو شروع کر دیا ہو یا شروع نہ کیا ہو اور اما انتفاضه مطلقاً میں مطلقاً سے مراد ظاہراً و باطناً ہے نیز قبله کی ضمیر کا مرجع مذکورہ وقت ہے اور فیھا کی ضمیر کا مرجع طھارت مائیہ ہے
مکان مصلی میں فرماتے ہیں کہ المکان الذی یصلی فیه۔۔۔۔۔ یقتضیه اطلاق العبارت
سوال نمبر 5
مندرجہ بالا عبارت کو مدِنظر رکھتے ہوئے بتائیں مکان مصلی سے کیا مراد ہے اس کی شرط کیا ہے عبارت ولو جاہلا ۔۔۔۔میں مذکور غصب کی مختلف صورتوں کی وضاحت کیجئے اور ہر صورت کے حکم کو بیان کی نیز بتائیں حکم شرعی اور حکم وضعی سے کیا مراد ہے
جواب
مکان مصلی سے مراد یہ ہے کہ
نماز گزار کا مکان :جس جگہ پر نماز ادا کی جائے ۔یہاں شرع مقدس میں مکان سے مراد : وہ خالی جگہ ہے جسے نمازی مصروف رکھے ہوئے ہو اور نماز کی حالت میں استعمال کرئے یا جس جگہ پر ایک واسطہ یا کئی واسطوں کے ذریعے سے اعتمادکیا گیا ہو مثلا زمین پر مصلی (جائے نماز )بچھایا جائے تو ایک جائے نماز کا واسطہ ہوگااوراگرزمین پر تخت پوش اوراس کے اوپر جائے نماز بچھایا گیا ہوتو دو واسطے (تخت پوش اور جائے نماز) ہوں گے اس کی شرط یہ ہے کہ نمازی نے اُس مکان کو غصب نہ کیا ہوا ۔اور عبارت و لو جاھلا میں مختلف صورتیں یہ ہیں کہ 1 اگر نمازی نے اُس مکان کو غصب کیا ہو لیکن وہ شخص غصب کے حکم شرعی ۔۔۔حرمت تصرف در مکان غصبی 2یا حکم وضعی ۔۔بطلان نماز درمکان غصبی سے جاہل ہو۔۔۔ تب بھی اُس کی نماز باطل ہوگی 3 لَا بِأَصْلِهِ ؛اگر نمازی۔مکان کی اصل غصبیت سے جاہل ہو تو۔۔۔ اُس کی نماز باطل نہ ہوگی ۔4 نَاسِیا لَهُ ؛اگرنمازی غصب کے حکم شرعی یا حکم وضعی سے ناسی(بھول میں ) ہو تو اُس کی نماز باطل ہوگی۔
5او لِأَصْلِهِ ؛اگر نمازی اصل غصبیت کو فراموش کربیٹھے اور غصبی جگہ پر نماز اداکرئے تب بھی اس کی نماز باطل ہوگی ۔ اور حکم شرعی یعنی غصبی جگہ کو استعمال کرنا حرام ہے اسلام میں اس سے جاہل ہو اور حکم وضعی یعنی غصبی جگہ میں نماز پڑھنا باطل ہے اس سے جاہل ہو
مکروہات مسجد کی بحث میں فرماتے ہیں کہ و انفاذ الاحکام اما مطلقا و فعل علی علیہ السلام له بمسجد الکوفہ۔۔۔۔۔۔ من منافرۃ للحامل
سوال نمبر 6
عبارت و انفاذ الاحکام ۔۔۔۔المامور بھا کے مطالب کو مکمل واضح اور الگ الگ کرکے بیان کیجئے اور بتائیے انفاذ کا معنیٰ کیا ہے اور مطلقاً سے مراد کیا ہے
جواب
۔ مذکورہ عبارت میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ 1 مسجد میں فیصلے کرنا اور حد جاری کرنا مکروہ ہے مطلقا۔ 3امام علی مسجد کوفہ میں فیصلے کیا کرتے تھے اس کی چند و جنہیں ہیں : 3، ایسے فیصلے نمٹانا مکروہ ہو کہ جن میں جھگڑے اور جدال کا شائبہ ہو لیکن امام کے سامنے یہ حالت پیش نہ آتی تھی۔4 ہمیشہ فیصلے کرنے کے لیے مسجد کو مقرر کر لینا مکروہ ہے اس طرح اگر کوئی اتفاقا کسی وقت کوئی فیصلہ پیش آئے تو مکروہ نہ ہو گا5 یہ کہ مسجد میں فیصلے کرنے کے لیے جانا مکروہ ہو پس اگر عبادت کے لیے مسجد جائیں اور وہاں کوئی مقدمہ پیش ہو اور اس کا فیصلہ کیا جائے تو مکروہ نہیں ہوگا انفاذ کا معنیٰ ہے فیصلہ کرنا یا حد جاری کرنا اور مطلقا یعنی ہر حالت میں مکروہ ہے
سوال نمبر 7
عبارت وعلی احدھا۔۔۔ کے مطالب کو مکمل اور واضح طور پر بیان کیجئے
جواب
مذکورہ عبارت میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ امام علی علیہ السلام کے فعل کو ان میں کسی ایک طریقے سے حل کرنا ممکن ہے، اور ان میں آخری وجہ مناسب تر ہےلیکن آپ کا مسجد میں قضاوت کے لیے جگہ معین کرنا ان تاویلوں کے ساتھ بہت سازگار نہیں ہے
قرائت کی بحث میں آیا ہے کہ و یجزی فی غیرھما ای فی غیر الاولین من الرکعات۔۔۔۔۔۔۔۔و لقیام غیره مقامه و زیادۃ
سوال نمبر 8
عبارت میں مذکور مسئلے کو بیان کیجئے اس کی دلیل کیا ہے مکمل وضاحت کیجئے
جواب
مذکورہ عبارت میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ نماز کی دورکعتوں کے بعد دوسری رکعتوں میں صرف حمد پڑھیں یا معروف تسبحات اربعہ (سبحان الله والحمد لله و لا اله الا الله و الله اکبر ) چار یعنی ایک مرتبہ پڑھے کہ چار تسبیحات ہیں یا نو تسبیحیں کہ تین سے تکبیر کو گرادے جس پر حریز کی روایت دلالت کرتی ہے یا دس تسبیحیں کہ آخری بار تکبیر کہے یا بارہ تسبیحیں کہ تسبیحات اربعہ کو تین بار دہرائے اور ان سب کے کافی ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ان سب کے لیے صحیح روایت نقل ہوئی ہے
سوال نمبر 9
عبارت ۔ ولا یقدح ۔۔۔۔ ایک اشکال کا جواب ہے اس اشکال اور جواب کو مکمل طور پر بیان کیجئے فی الثانی لذالک میں ذالک کا مشار الیہ کیا ہے غیره اور مقامه کی ضمیر کا مرجع کیا ہے
جواب
ذالک کا مشار الیہ جو روایت آئی ہے وہ ہے اور غیره کی ضمیر کا مرجع اذکار ہے اور مقامه کی ضمیر کا مرجع تسبیح اربعہ ہے
السلام علیکم۔