سالانہ 2010
سوال نمبر 1جواب
جاری پانی وہ ہے جو زمین سے ابلتا ہے بطور مطلق چاہے وہ جاری ہو یا نہ ہو مصنف نے
کتاب دروس میں جاری پانی کے پاک ہونے کے لیے اس کا ہمیشہ جاری ہونے کو معتبر سمجھا ہے اور اگر جاری پانی قلیل اور نجاست سے مل جائے تو وہ زوال تغیر سے پاک نہیں ہوگا چاہے خود تبدیل زائل ہو یا پانی سے یا کسی اور
طریقے سے بلکہ وہ پاک ہوگا جب وہ کر پانی سے جا ملے اور مصنف کا نظریہ یہی ہے کہ وہ جاری پانی جو قلیل نہ ہو اور اس کے ساتھ نجاست محلق ہو جائے تو وہ کر پانی سے ملنے کی صورت میں ہی پاک ہوگا
دونوں مورد میں مطلقا سے مراد یہ ہے کہ چاہےوہ جاری ہو یا نہ ہو دائمی ہو یا نہ ہو تغیرزوال سے پانی پاک ہوتا ہے چاہے وہ بنفسه ہو یابعلاج
عبارت جعله ۔۔۔ میں کہنا چاہتا ہے کہ علامہ
حلی اور ایک دوسری جماعت نے جاری پانی کو دوسرے پانیوں کی طرح قرار دیا ہے اگر جاری پانی قلیل ہو تو نجاست ملنے سے بھی
نجس ہو جائے گا دلیل نقل روایت بھی ہے اسی بات کی تائید کرتی ہے
سوال نمبر 2
غیر آب جاری کے پاک ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تغیر زائل ہونے کے بعد یا اس کے ساتھ کر پانی جا ملے تو وہ آب غیرے جاریپاک ہو جاتا ہے
اور لاقی کرا کا عطف زوال پر ہے یہاں پر غیرغیر مراد سے مراد یہ ہے غیر آب جاری کر سےملاقات کرے زوال تغیر سے پہلے
مصنف کی عبارت میں غیر مراد کو بھی شامل ہے وہ یہ کہ تبدیلی ختم ہونے اور کر کے ملنے
سے پاک ہو جائے گا وہ کر اسے جیسے بھی ملے
سوال نمبر 3
مذکورہ مسئلہ یہ ہے کہ کپڑے اور بدن میں درہم بغلی سے وسعت میں کم خون کی نجاست معاف ہے درہم بغلی کی مقدار تین ہے ایک ہاتھ کی ہتھی کے اندر نشینی کی جگہ دو انگوٹھے کا سرا تین کلمہ شہادتین والی انگلی کے اوپر والے حصے برابر درہم بغلی کا مقدار ہے درہم بغلی کے درمیان مختلف اقوال کے درمیانمنافات نہیں کیونکہ اتنا اختلاف تو ایک قسمکے لیے درہمون میں ہو سکتا ہے
عبارت انما یفتقر ۔۔۔ الثلاثہ میں کہتے ہیں کہدرہم بغلی کی مقدار عورتوں کے تین قسم کےخون حیض نفاس اور استحاضہ کے علاوہ کسی قسم کا بھی خون ہو خون معاف ہےسوال نمبر 4
بعض اصحاب نے نجس العین خون کو عورت کے تین خون کے ساتھ محلق کیا ہے کیونکہ نجس العین خون کی نجاست دو برابر ہوتی ہے شہد ثانی نے اس پر اشکال کیا ہے کہ اس میں کوئی خصوصی روایت نہیں ہے اور اصل قانون کا تقاضا یہ ہے کہ نجس عین کا خون اس عمومی قانون میں داخل ہو جس میں کہا گیا
ہے کہ نماز کے لیے خون کو پاک کرنا کرنا چاہیےاور اس مقدار سے جو معاف دی گئی ہے وہ یہہے کہ خون ایک درہم سے کم ہو
سوال نمبر 5۔
مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک جنازے پر نماز پڑھتے وقت دوسرا جنازہ حاضر ہو جائے تو پہلے کو تمام کرے پھر شروع سے دوسری نماز جنازہ پڑھے
ربما۔۔۔ میں کہنا چاہتا ہے کہ جب دوسری پر نماز پڑھنا مستحب ہو تو بعض اوقات اسی کو معین کرنے کا کہا گیا ہے کیونکہ اس وقت نیت کا تعین مختلف ہے لیکن یہ بات صحیح نہیں کیونکہ اگر اختلاف نیت میں مشکل پیدا کرے تو دوسری جنازے کے لیے بھی تو نیت کو بدل لینا پڑے گا
و لیس باالوجه سے مراد یہ ہے کہ نیت کا تعین مختلف ہے یہ دلیل صحیح نہیں اور اختلاف الوجہ میں وجہ سے مراد نیت میں اختلاف ہےاور لیسب الوجہ سے مراد نیت کے مختلف ہونےمیں کوئی صحیح دلیل نہیں
سوال نمبر 6
عبارت میں مذکور مسئلہ یہ ہے کہ ایسے کام
کرنا جن چیزوں سے نماز کی صورت ختم ہو جاتی ہے وہ نمازی ہونے سے نکل جاتا ہے ان چیزوں میں سے فعل کثیر ہے فعل کثیر کا معیار یہ ہے کہ اس میں کسی خاص عدد کے مقدار تک کام کرنا لازم نہیں کبھی زیادہ کم کرنا کم شمار ہوگا جیسے انگلیوں کی حرکت اور کبھی کم زیادہ شمار ہوتا ہے جیسے چھلانگ لگانا میں فیه کی ضمیر کا مرجع الصلاۃ ہے یا فعل ہے
سوال نمبر 7
قرات کے بارے میں جس شخص کو سورہ حمد نہیں آتی تو حکم یہ ہے کہ امکانی صورت اور وقت وسیع ہونے کی حالت میں سورہ حمد کا
سیکھنا واجب ہے دوسرے صورت اور اگر وقت تنگ ہو تو جتنی مقدار میں سورہ حمد کو
اچھی طرح پڑھ سکے پڑھے جب اتنی مقدار ہو کہ اسے قرآن پڑھنا کہا جا سکے تین اور اگر وقت بہت کم ہو تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس سے اصل سورہ حمد آتی نہیں
عبارت و ھل الاشھر میں کہنا چاہتا ہے کہ اگر وقت بہت کم ہو تو اس شخص کی طرح ہے
جسے اصلا سورہ حمد نہیں آتی تو کیا وہ اسی پر انحصار کرے یا جو حصہ رہ جائے اس کا بدل لائے عبارت سے ظاہر ہے کہ اس پر بھی ہی انحصار کرے اور کتاب دروس میں دوسری
وجہ کو اختیار کیا گیا ہے یعنی جو حصہ باقی
رہ جائے اس کا بدلہ لائے یہی قول مشہور تر ہے
جواب
عبارت ثم ان لم یعلم میں کہتے ہیں کہ اگر قرآن سے کچھ نہ جانتا ہو تو حمد کی جتنی
مقدار یاد ہو و اسے تکرار کرے اور اگر قرآن کے کچھ مقدار یاد ہو تو آیا اسے سے بدلہ لائے یا حمد کی مقدار یا جتنا تکرار کرے اس میں دو قول ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ حمد کا بعض حصہ اس کا بدلہ ہونے کے قریب ہے
دوسرا قول کی دلیل بدل نہ بننے کی وجہ یہ ہے
کہ ایک ہی حصے کو اصل اور بدل نہیں بنایا جا سکتا منھا کی ضمیر کا مرجع الحمد ہے اور منهکی ضمیر کا قرآن ہے
عبارت و یجب مرعات الترتیب ۔۔۔۔۔ حقه به میں کہتے ہیں کہ بدل لائے جانے والی عبارت کا حروف میں اس کے برابر ہونا واجب ہے اور ایک قول ہے کہ فقط آیت کا برابر ہونا کافی ہے پہلی بات مشہور تر ہے بدل اور اس چیز میں ترتیب کا لحاظ ضروری ہے اس میں ان چار صورتیں
ہیں ایک اگر شروع سے حمد آتی ہو تو بدل کو آخر میں پڑھے دو اگر حمد آخر سے یاد ہو تو
بدل کو پہلے پڑھے تین اور اگر حمد شروع اور آخر سے آتی ہو تو بدل کو درمیان میں پڑے چار اور اگر حمد صرف درمیان سے یاد ہو تو شروع اور آخر میں بدل کو پڑھے
مبدل سے مراد سورہ حمد ہے اور عبارت قدمه اور به کی ضمیر کا مرجع بدل ہے
جواب
عبارت میں مذکر مسئلہ یہ ہے کہ اگر شک کے بعد کسی ایک طرف کا ظن غالب ہو جائے تو اس پر بنا رکھے یعنی اسی طرف پر جس کا ظن غالب ہو (بنا رکھنے کی معنی یہ ہے کہ حقیقت میں اسی پر بنا رکھی جائے کہ کم یا
زیادہ ہونے میں یا صحیح اور باطل ہونے میں اس کے حکم کو ضرور سمجھا جائے) اگر شک کا افعال میں ہو اور اس کے انجام دینے کا گمان ہو جائے تو بنا وقوع پر ہوگی اور اگر واقع نہ ہونے کا ظن ہو تو اگر اس کے محل میں ہو تواس کو بجا لائے عدمه کا عطف غلب پر ہے
جواب
اگر شک رکعات میں ہو تو حقیقت میں وہی رکعتیں سمجھیں اور نماز احتیاط پڑھنے کی
بھی ضرورت نہیں اگر کم رکعتوں کا ظن غالب ہو تو اس پر بنا رکھے اور اس کو کامل کرے اگر زیادہ رکعتوں کا ظن غالب ہو نماز کی رکعتوں کی تعداد سے زیادہ رکعتیں نہ ہو تو اس پر بنا رکھ کر تشھد و سلام پھیر کر نماز پوری کرے اور اگر نماز کی رکعتوں سے زیادہ شک ہو تو ایسا ہو جائے گا کہ نماز کے آخر میں اضافہ کیا ہو تو اگر جو اگر چوتھی رکعت کے بعد تشھد کی مقدار کے برابر نہ بیٹھا ہو تو اس کی نماز باطل ہوگی من غیر احتیاط سے مراد یہ ہے کہ نماز احتیاط پڑھنے کی ضرورت نہیں
جب رکعتوں کی تعداد میں ظن ہو حقیقت میں وہی رکعتیں سمجھے
السلام علیکم۔