مغنی دوم سالانہ امتحانات 2021
عطف بر محل کی بحث میں آیا ہے له عند المحققین۔۔۔۔۔۔۔۔وجود المحرز
سوال نمبر 1
ان تین شرائط کی مثالوں کے ضمن میں مکمل وضاحت کیجئے
جواب
محل پر عطف کرنے کے لئے محققین کے نزدیک تین شرائط ہیں
ایک فصیح کلام میں عطف محل ظاہر ہو یعنی محلی اعراب اور لفظی اعراب سامنے آسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر لیس زید بقائم ) (بقائم) محلا منصوب ہے چونکہ (لیس) کی خبر
ہے اب اس محلی اعراب یعنی نصب کو لفظوںمیں ظاہر کیا جاسکتا اورباء کو ساقط کر
سکتے ہیں لیس زید قائما) بھی پڑھ سکتے ہیں دو محل کا اصل حق یہ ہے کہ وہ ظاہر ہو
یعنی محل معطوف علیہ وہ حقیقی اور اصلی ہونا چائیے فرضی اور خیالی نہیں ہونا چاہیے جیسا کہ اس مثال میں فرضی اور خیالی ہے ( هذا ضارب زيدا واخيه ) اس مثال میں (اخیہ) کو جر دی گئی ہے (زید) کے محل کو فرضی خیال کرتے ہوئے
تین محرز موجود ہو یعنی وہ محل کو طلب
کرنے والا ہو اور کسی سبب سے وہ اپنے محل
کو طلب کرنے سے زائل نہ ہو جیسے ان زیدا و
عمر و قائمان میں عمر کو زید والا محلی اعراب
نہیں دے سکتے کیونکہ اس کا محلی اعراب تھارفع جو ابتدائی کے ذریعے سے اسے ملتا اور وہابتدائیت ختم ہو چکی ہے عامل لفظی (ان) کے داخل ہونے سے
مضاف ۔ مضاف الیہ سے جو چیزیں کسب کرتا ہے ان میں چوتھی یہ ہے
ازال القبح أو التجوز۔۔۔۔۔۔۔۔مجری المتعدی
سوال نمبر 2
اس عبارت کی مکمل وضاحت کیجئے
جواب
مضاف ۔ مضاف الیہ سے جو چیزیں کسب کرتا ہے ان میں سے چوتھی یہ ہے کہ قبح اور تجوز
کا زائل ہونا جیسے مررت بالرجل الحسن الوجه اس لفظ الوجه میں دو صورتیں ہیں
ایک اگر الوجه کو رفع پڑے گے تو کلام قبیح
ہوجائے گآ کیونکہ صفت لفظاً خالی ہے موصوف سے
دو اگر الوجه کو نصب پڑھے گے تو تجوز حاصل ہو جائے گا کیونکہ وصف جو قاصر ہے وہ قائم مقام ہو جائے گی متعدی کے
ان دلیل الحذف نوعان [ والثانی صناعی و ذلک۔۔۔۔۔۔و قام عمرو
سوال نمبر 3
عبارت کے تمام مطالب کی مکمل وضاحت کیجئے
جواب
مذکورہ عبارت میں چار مطالب بیان کئے گئے ہیں
ایک حذف کی دوقسمیں ہیں جس میں سے
دوسری قسم صناعی ہے جس طرح اس مثال
میں قمت و أصک عینه
دو تو یہ مثال تقدیرا اس طرح ہو جائے گی
قمت و أنا أصک عینه کیوں کہ واو حالیہ داخل نہیں ہوتا مضارع مثبت پر جو خالی ہو قد سے تین مثال و لکن رسول اللہ جو ہے وہ اصل میں اس طرح ہوگی و لکن کان رسول اللہ کیونکہ مابعد لکن معطوف نہیں ہوتا ہے کے اس پر واو داخل ہوا ہے اور ناہی واو کا مابعد معطوف بن سکتا ہے کیونکہ وہ مثبت ہے اس کا ماقبل منفی ہے
چار واو مفرد کو واو مفرد پر عطف نہیں کیا جاسکتا سوائے اس کے وہ شریک ہو نفی اور اثبات میں
پانچ جب صحیح ہو واؤ کے بعد جملہِ کا فرضکرنا تو ان دونوں کی مخالفت ہوگی جیسے ما قائم زید و قام عمرو
آیہ شریفہ فَانۡکِحُوۡا مَا طَابَ لکَمُۡ منَ النسَآءِ مَثۡنٰیوَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ میں واو کی بحث میں آیا ہے کہ ان الواو نائب عن أو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کھذۃالآی
سوال نمبر 4
عبارت کے مطالب کی مکمل وضاحت کیجئے
جواب
اس عبارت میں تین مطالب بیان کئے گئے ہیں ایک بعض معربین اور مفسرین نے کہا ہے کہ واو نائب بنتا ہے أو کا لیکن یہ بات لغت میں نہیںجانی گئی
دو اس آیت کے بارے میں حمزہ ابن حسناصفہانی کا کا نظریہ ہے کہ واو أو کی معنیٰ میں آیا ہے لیکن وہ واو کے حق کو نہیں درک کر سکا
تین عدت کی دو قسمیں ہیں
ایک عدد اصول وہ ہے کہ بعض عدد کو بعض
سے ملانا جیسے ثَلٰثَ اَیامٍ فِی الۡحَج وَ سَبۡعَ اِذَا رَجَعۡتُمۡ تِلۡکَ عَشَرَۃٌ کاَِمِلَ ٌ یہاں پر پہلے عددٍ کو
دوسرےؕ عدد سے واو ملانے آیا ہے دو عدد معدولہ وہ ہے کہ بعض عدد کو بعض سے ملایا نہیں جاتا بلکہ ان سے جدا جدا مراد لی جاتی ہے جیسے اس آیت میں ہے فَانۡکِحُوۡا
مَا طَابَ لکَمُۡ منَ النسَآءِ مَثۡنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ* یہاں مثنی و ثلث و ربع میں سے ہر کسی سے الگ مطلب ہے کہ ایک یا دو چار بھی الگ الگ شادیاں کر سکتے ہیں
جار مجرور اور ظرف کی بحث میں آیا ہے کہاذا وقع بعد الظرف۔۔۔۔۔۔۔۔کونه فاعلا
سوال نمبر 5
عبارت کی مکمل وضاحت کیجئے اور اس مسئلے میں مصنف کا مختار کیا ہے ہے اور ان کی دلیل بیان کریں
جواب
جب ظرف اور جار ومجرور کے بعد مرفوع واقع ہو اور ظرف اور جارمجرور مقدم ہو نفی پر جیسے ما فی الدار احد جار مجرور مقدم ہوئے
ہیں ما نافیہ پر یا استفھام پر جیسے أ فی الدار زید یہاں استفہام پر مقدم ہوئے ہیں یا موصوف پر یا صاحب خبر پر یا حال پر تو اس مرفوعکے بارے میں تین نظریے ہیں
۔1 ارجح یہ ہے کہ مرفوع مبتدأ ہے اور اس کی خبر لائی گئی ہے ظرف اور جار مجرور سے
۔2 ارجح یہ ہے کہ مرفوع فاعل ہے مصنف نے اس قول کو اختیار کیا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اصل نہ مقدم ہوتا ہے نہ مؤخر
۔3 واجب ہے کہ مرفوع فاعل ہو لیکن اس میں اختلاف ہے
السلام علیکم۔