علم صرف کی تعریف کریں
جواب
ایسے اصول اور قوانین کے ذریعے سے ایک کلمے سے دوسرے کلمے بنانے اور ان میں تبدیلی کرنے کا طریقہ حاصل ہو
علم صرف کا موضوع بیان کریں
جواب
علم صرف کا موضوع یہ ہے کہ صیغہ(صیغہ کلمہ کی اس شکل کو کہتے جو حروف اور حرکات و سکنات کی مخصوص ترتیب سے حاصل ہوتی ہے)کے اعتبارسےکلمہ ہے ۔
علم صرف کی غرض بیان کریں
جواب
صیغوں کو بنانے اور اور ان میں تبدیل کرنے میں ذہن خطاٶں سے بچانا
علم صرف کو علم صرف کہنے کی وجہ بیان کریں
جواب
علم صرف کو صرف کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا لغوی معنیٰ ہے پھیرنا اور کیوں کہ اس عام میں ایک کلمے کی مختلف صورتیں بنانے کا طریقہ ہوتا ہے اس لیے اس علم کو علم صرف یا علم التصریف کہتے ہیں
علم صرف پڑھنے کا ثمرہ بیان کریں
جواب
عربی لغت پڑھنے کی ایسی صلاحیت پیدا ہونا جو قرآن مجید پڑھنے اور احادیث کو سمجھنے کے لیے مدد گار ہے
کلمے(١) کی لغت عرب میں کتنی قسمیں ہیں بیان کریں
جواب
کلمے(٢) کی لغت عرب میں تین قسم ہے
اسم فعل حرف
اسم(٣) جیسے رجل و علم
فعل(٤) جیسے ضرب دحرج
حرف(٥ ) جیسے من الی
تصریف کی لغوی اور اصطلاحی تعریف بیان کریں
جواب
تصریف کو لغت میں
ایک ایک چیز کو پھرانہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف تصریف کہتے ہیں
اور اصطلاح میں علماء کی عبارت یہ ہے کہ لفظ کو پھیرانہ مختلف صیغوں میں تاکہ مختلف معنائی حاصل ہو
اسم فعل اور حرف میں تصریف کتنی ہوتی ہے بیان کریں
جواب
اسم میں تصریف ہوتی لیکن کم جیسے(٦) رجل رجلان رجال رجیل وغیرہ
اور فعل میں تصریف بہت ہوتی ہے جیسے(٧) ضرب فعل سے یضرب مضارع کے صیغے اور فعل امر اور استفھام تک فعل ماضی کے صیغے پھیرایا جاتا ہے
اور حرف(٨) میں تصریف نہیں ہے کیونکہ اس حرف تصرف نہیں ہیں
حاشیہ
١ کلمہ لفظ ہے جو مفرد معنی کے لئے وضع کیا گیا ہوتا ہے اور لفظ مستعمل ہے لفظ مھمل نہیں ہے
اور کلمہ کی دو قسمیں
جامد یا مشتق
جامد تو وہ لفظ ہے جس کی گردان نہیں ہوتی شروع سے ہی وہ لفظ ایسا ہوتا ہے
جیسے حجر
اور مشتق وہ الفاظ ہیں جن کی گردانے ہوتی ہے جیسے ضرب
کلمہ اصل مشتق ہوتا ہے
٢ کلمہ عربی الفاظ میں سے ہے لیکن کلمہ جس طرح عربی لغت میں تین قسم کی طرف تقسیم ہوتا ہے اسی طرح دوسری زبانوں میں بھی یہ کلمہ تین قسم کی طرف تقسیم ہوتا ہے چاہے کوئی زبان ہو بحوالہ کتاب شرح کلمہ
٣ فعل وہ کلمہ ہے جو دلالت کرتا ہے اپنی معنی پر اور تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے سے ملا ہوا ہوتا ہے جیسے حسن ۔۔نیکوکار۔۔
٤ اسم وہ کلمہ ہے جو اپنے معنی پر دلالت کرتا ہے لیکن تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے سے ملا ہوا نہیں ہوتا جیسے علم (جاننا)
اور رجل اسم کی مثال ہے اور علم صفت کی مثال ہے
٥ حرف وہ کلمہ ہے جو اپنے معنی پر دلالت نہیں کرتا لیکن یہ دونوں کلموں کے درمیان ربط پیدا کرتا ہے جیسے دخلت فی المدرسۃ
٦ رجل رجل اسم فرد صحیح ہے
رجلان اسم تثنیہ ہے
رجال جمع مکسر ہے
رجیل اسم مصغر ہے
٧ فعل کا ایک صیغہ مختلف صیغوں میں تبدیل ہوتا ہے جیسے فعل ثلاثی مجرد ہے اور مزید افعل ہوگا اور اگر اس کو رباعی کرے تو یہ تفعلل اور رباعی مزید فیہ افعنلل اور ان کے ھزارھا صیغے بنتے ہیں اس لیے فعل میں تصریف زیادہ ہوتی ہے
٨ حرف کی صورت و شکل ہمیشہ ایک ہی ہوتی ہے اس لئے علم صرف میں حرف سے بحث نہیں ہوتی اور کلمہ جب بھی آتا ہے فعل اور اسم اس سے مقصود ہوتے ہیں اور حرف کم ہوتا ہے
اسم کی کتنی بنا ہیں بیان کریں کریں
جواب
اسم١ کے تین دن بنائی٢ ہیں ثلاثی جیسے فرس
رباعی جیسے جعفر
خماسی جیسے سفرجل
اسم کے کتنے وجھا ہیں اور ان کی تعریف کریں
جواب
اسم کے دو وجہ ہیں
ایک۔ مجرد؛ ھر وہ اسم جس میں حروف اصلیہ ہو فقط وہ مجرد ہے جیسے رجل
دو, مزید فیہ: ہر وہ اسم جس میں حرف اصلی کے علاوہ حروف زائدہ ہو وہ مزید فیہ ہے جیسے جعفر
فعل٣ کی کتنی بنائی ہیں اور وجہ بیان کریں
جواب
فعل کی دو بنا ہے
فعل ثلاثی ہوتا ہے جیسے کرم
فعل رباعی ہوتا ہے جیسے دحرج
اور اس کی وجہ ہے
ایک مجرد: ھر وہ فعل جس میں حروف اصلیہ ہو فقط وہ مجرد ہے جیسے شرف
دو مزید فیہ: ہر وہ فعل جس میں حرف اصلی کے علاوہ حروف زائدہ ہو وہ مزید فیہ ہے جیسے اکرم
حروف اصلی کو جاننے کا طریقہ کیا ہے بیان کریں اور حروف اصلی کون سے ہے بیان کریں
جواب
حروف اصلیہ یہ ہیں فاء عین لام
جو بھی حرف فاء عین لام کے مقابلے میں آئے وہ حرف اصلی ہے جیسے فعل کے مقابلے میں ضرب
حروف مزید فیہ کو جاننے کا طریقہ کیا ہے بیان کریں
جواب
ہر وہ حرف جو ان اصلی حرفوں کے مقابلے میں نہ آئے وہ مزید فیہ ہے جیسے ضارب و ناصر بروزن فاعل
اسم خماسی اور اسم رباعی بنانے کا طریقہ کیا ہے بیان کریں
جواب
اسم رباعی بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اسم ثلاثی میں لام ایکبار تکرار کی جائے جیسے فعل تھا لام ایکبار تکرار کی جائے تو ہو جائے گا فعلل بر وزن جعفر
اسم خماسی بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اسم ثلاثی میں لام دو بار تکرار کی جائے جیسے فعل تھا جب دو بار لام تکرار کی جائے گی تو فعللل ہو جائے گا بر وزن سفرجعل
فعل رباعی بنانے کا طریقہ کیا ہے بیان کریں
جواب
فعل رباعی بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ فعل ثلاثی میں لام ایکبار تکرار کی جائے جیسے فعل تھا اگر لام ایکبار تکرار کی جائے تو ہو جائے گا فعلل بر وزن دحرج
اسم ثلاثی مجرد اور اور مزید فیہ کے کتنے صیغے ہیں بیان کریں
جواب
اسم ثلاثی مجرد کے دس صیغے ہیں وہ یہ ہیں
1فلس٤ 2فرس 3کتف 4عضد 5حبر 6عنب 7قفل 8صرد 9ابل 10عنق
اور مزید فیہ کہ بہت سی صیغے ہیں جیسے رجال
اسم رباعی مجرد اور مزید کے کتنے صیغے ہیں بیان کریں
جواب
اسم رباعی مجرد کے پانچ صیغے ہیں وہ یہ ہے 1جعفر٥ 2درھم 3زبرج 4برثن 5قمطر
اور اور مزیدفیہ کم ہوتی ہے جیسے عصفور
اسم خماسی مجرد اور مزید کی کے کتنے صیغے ہیں بیان کریں
جواب
اسم خماسی مجرد کے چار صیغے ہیں وہ یہ ہے
1سفرجل 2قزعمل 3جحمرش 4قرطعب
اور مزید فیہ بہت کم ہوتی ہے جیسے سفرجیل
فعل ثلاثی مجرد اور مزید فیہ کے کتنے صیغے ہیں بیان کریں
جواب
فعل ثلاثی مجرد کے تین صیغے ہیں وہ یہ ہے نصر علم شرف
اور اسم مزید فیہ بہت ہے جیسے اکرم صرف اکتسب انصرف وغیرہ
فعل رباعی مجرد اور مزید فیہ کے صیغے کتنے ہیں بیان کریں
جواب
فعل رباعی مجرد کا صیغہ ایک ہے دحرج اور مزید فیہ کم ہے جیسے تدحرج احرنجم اقشعر
حاشیہ
١ اسم سات چیزوں کی طرف تقسیم ہوتا ہے
ایک مصدر اور غیر مصدر کی طرف۔
دو جامد اور مشتق کی طرف
تین مذکر اور مونث کی طرف
چار متصرف اور غیر متصرف کی طرف
پانچ معرفہ اور نکرہ کی طرف
چھ معرب اور مبنی کی طرف
٢ اصل میں اس اسم کی 6 بنائی ہیں
ایک ثلاثی مجرد: وہ ہے جس میں تین حروف اصلی ہو
دو ثلاثی مزید فیہ
تین رباعی مجرد: وہ ہے جس میں چار حروف اصلی ہو
چار رباعی مزید فیہ
پانچ خماسی مجرد: وہ ہے جس میں پانچ حروف اصلی ہو
6 خماسی مزید فیہ
٣ فعل تین چیزوں کی طرف تقسیم ہوتا ہے
ماضی: وہ فعل جو گزشتہ زمانہ میں واقع ہو
مضارع: وہ فعل جو آئندہ زمانے میں واقع ہو
امر: وہ فعل جو حال میں واقع ہو
٤ فلس یعنی سکہ
فرس دوڑنے والا گھوڑا
کتف یعنی باندھنا ، جکڑنا ؛ مراد ؛ شانہ ، کندھا کبوتر کی وہ پرواز جس میں گردش درست نہ ہو.
عضد یعنی بازو
حبر یعنی یہودیوں کا عالم، مذہبی پیشوا دانا، عقل مند، نیکو کار شخص، مطلق عالم
عنب یعنی انگور
قفل یعنی تالا
صرد یعنی وہ پرندہ جو کیڑوں کھاتا ہے اور چڑیاکا شکار کرتا ہے
ابل اونٹ
عنق یعنی گردن
٥ جعفر یعنی ندی، نالہ، چھوٹا دریا
درھم یعنی چاندی کا سکہ، عرب میں رائج سکہ وزن کی ایک پیمائش
زبرج یعنی گل کاری، مینا کاری، اراستگی، زیور سونا پتلا بادل جس میں سرخی کی جھلک ہو جمع: زبارج
برثن یعنی درندہ کا پنجہ، جنگل جمع: براثن ۔
قمطر یعنی ڈسک
٦سفرجل یعنی بہی، ناسپاتی اور سیب کیطرح کا ایک پھل (جو کشمیر میں پیدا ہوتا ہے )
صحیح سالم کی تعریف کریں مع مثال
جواب
ہر وہ اسم اور فعل جس کے حروف اصلی میں ھمزہ تضعیف اور حرف علہ نہ ہو تو وہ صحیح سالم ہے جیسے اسم کی مثال رجل اور فعل کی مثال ضرب
مہموز کی تعریف کریں مع مثال
جواب
ہر وہ اسم اور فعل جس کے حروف اصلی میں ھمزہ ہو تو وہ مھموز ہے جیسے اسم کی مثال امر اور فعل کی مثال امر
مضاعف کسے کہتے ہیں بیان کریں مع مثال
جواب
ہر وہ اسم اور فعل جس کے حروف اصلی میں تضعیف ہو اس کو مضاعف کہتے ہیں جیسے اسم کی مثال مد اور فعل کی مثال مد
تضعیف کی کیا معنی ہے بیان کریں
جواب
یعنی دو حرف اصلی ایک ہی کلمے میں ایک ہی جنس کے آجائے تو وہ تضعیف ہے جیسے مد اصل میں مدد ہے
معتل کسے کہتے ہیں بیان کریں مع مثال
جواب
ہر وہ اسم اورفعل جس کے حروف اصلی کی جگھ پر حرف علہ آجائے وہ معتل ہے جیسے اسم کی مثال وعد اور فعل کی مثال وعد
معتل کی کتنی صورتیں ہیں اور حرف علہ کونسے ہیں بیان کریں
جواب
معتل کی تین صورتیں ہیں معتل الفی معتل یائی معتل واوی
اور حرف علہ یہ ہیں الف واو یاء
معتل الفاء کسے کہتے ہیں بیان کریں مع مثال
جواب
ھر وہ اسم اور فعل جس کے حرف فاء الفعل کی جگہ پر کوئی حرف علہ آجائے تو وہ معتل الفاء اور اس کو مثال بھی کہتے ہے جیسے اسم کی مثال وعد اور فعل کی مثال وعد
ہفت اقسام کتنے ہیں ان کو بیان کریں
جواب
ہفت اقسام سات ہیں اور وہ یہ ہیں
1صحیح 2مثال 3مضاعف 4لفیف 5ناقص 6مھموز 7اجوف
معتل العین کسے کہتے ہیں بیان کریں مع مثال
جواب
ہر وہ اسم اور فعل جس کے حرف عین الفعل کی جگہ پر حرف علہ آجائے وہ معتل العین اور اس کو اجوف کہتے ہے جیسے اسم کی مثال قول اور فعل کی مثال قال
معتل العین کسے کہتے ہیں بیان کریں مع مثال
جواب
ہر وہ اسم اور فعل جس کے حرف لام الفعل کی جگہ پر حرف علہ آجائیں وہ معتل العین اور اس کو ناقص بھی کہتے ہے جیسے اسم کی مثال رمی اور فعل کی مثال رمی
لفیف کسے کہتے ہیں اور لفیف کی کتنی قسمیں ہیں بیان کریں
جواب
ھر وہ اسم اور فعل جس میں دو حرف علہ آئی تو لفیف ہے
جیسے اسم کی مثال وقی اور فعل کی مثال وقی
لفیف مفروق کسے کہتے ہیں بیان کریں
جواب
ہر وہ اسم اور فعل جس میں فاء الفعل اور لام الفعل کی جگہ پر حرف علہ ہے تو وہ لفیف مفروق ہے جیسے اسم کی مثال وقی اور فعل کی مثال وقی
لفیف مقرون کسے کہتے ہیں بیان کریں مع مثال
جواب
ہر وہ اسم اور فعل جس کے عین الفعل اور لام الفعل کی جگہ پر علہ آجائے تو وہ لفیف مقرون ہے جیسے اسم کی مثال طی اور فعل کی مثال طوا
نوٹ
ان کی وضاحت ان کے تفصیلی مباحث پر کی جائے گی
فعل ثلاثی مجرد کے کتنے صیغے ہیں بیان کریں
جواب
فعل ثلاثی مجرد کے تین صیغے ہیں
ایک ١فعل کے وزن پر جیسے نصر دو ٢فعل کے وزن پر جیسے علم تین ٣فعل کے وزن جیسے شرف
یہ یہ تین فعل ماضی کے صیغے ہیں اور یہ دلالت کرتے ہیں گزشتہ زمانے پر
فعل ثلاثی مجرد کے صیغوں میں سے کس طرح فعل مستقبل بنتا ہے بیان کرے
جواب
فعل ثلاثی مجرد کے صیغوں میں ھر ایک سے ایک مستقبل بنتا ہے جو دلالت کرتا ہے آئیندا زمانے پر یا حال پر جیسے نصر ینصر ضرب یضرب منع یمنع اور ٢فعل کا دو مستقبل جیسے علم یعلم حسب یحسب.اور ٣فعل کا ایک مستقبل ہے جیسے شرف یشرف
اصول کی تعریف کرے اس کے باب کونسے ہے بیان کرے
جواب
اصول کو اصول اس لیے کہتے کہ جو اس کے صیغے ہے وہ اصل ہے باقی اصول کی فروع ہے
اور اصول کے صیغے یہ ہے جیسے نصر ینصر ضرب یضرب علم یعلم یعنی ماضی کے عین الفعل کی حرکت مستقبل کے عین الفعل کی حرکت سے مختلف ہے
فروع کے باب کونسے ہے بیان کرے اور ان بابوں فروع کیوں کہتے ہے
جواب
فروع کے بابوں کو فروع اس لیے کہتے یہ اصول کے بابوں کی شاخ ہے
اور وہ یہ ہے
جیسے شرف یشرف منع یمنع حسب یحسب
یعنی ماضی کے عین الفعل کی حرکت مستقبل کے عین الفعل کی حرکت ایک جیسی ہوتی ہے
جب کے فعل ثلاثی مجرد 6 باب ہے تو مصنف نے کیوں کہا فعل ثلاثی مجرد کے تین باب ہے
جواب
فعل ثلاثی مجرد کے اصل تین باب ہے باقی اس کی شاخی ہے لہزا فعل ثلاثی مجرد کے صیغوں میں حرف زائد کے بڑانے سے 6 باب ہو جاتے
فعل ثلاثی مزید فیہ کے باب کتنے ہے بیان کرے
جواب
فعل ثلاثی مزید فیہ کے مشھور 10 باب ہے وہ یہ ہے
1 باب افعال
2 باب تفعیل
3 باب مفاعلہ
4 باب افتعال
5 باب انفعال
6 باب تفعل
7 باب تفاعل
8 باب افعلال
9 باب استفعال
10 باب افعیلال
حاشیہ
١ فعل عین الفعل فتح سے
٢ فعل عین الفعل زیر سے
٣ فعل عین الفعل پیش سے
باب افعال کا مصدر(١) ماضی اور مضارع بیان کرے
جواب
باب افعال کا مصدر افعال کے وزن پر آتا ہے بر وزن اکراما
ماضی افعل ہے بر وزن اکرم
اور مضارع یفعل ہے بر وزن یکرم
باب تفعیل کا مصدر ماضی اور مضارع بیان کرے
جواب
باب تفعیل کا مصدر تفعیل ہے بر زون تصریفا
ماضی فعل ہے بر وزن صرف
اور مضارع یفعل ہے بر وزن یصرف
باب مفاعلہ کا مصدر ماضی اور مضارع بیان کرے
جواب
باب مفاعلہ کے تین مصدر ہے ایک مفاعلۃ ہے بر وزن مضاربۃ دو فعال بر وزن ضراب تین فیعال بر وزن ضیراب
ماضی فاعل بر وزن ضارب
اور مضارع یفاعل بر وزن یضارب
ان تینوں بابوں کی ماضی میں ایک حرف زائد ہے
باب افتعال کا مصدر ماضی اور مضارع بیان کرے
جواب
باب افتعال کا مصدر افتعال ہے بر وزن اکتسابا
ماضی افتعل ہے بر وزن اکتسب
اور مضارع یفتعل ہے بر وزن یکتسب
باب انفعال کا مصدر ماضی اور مضارع بیان کرے
جواب
باب انفعال کا مصدر انفعال ہے بر وزن انصراف
ماضی انفعل ہے بروزن انصرف ہے
اور مضارع ینفعل ہے بر وزن ینصرف
باب تفعل کا مصدر ماضی اور مضارع بیان کرے
جواب
باب تفعل کا مصدر التفعل ہے بر وزن تصرفا
ماضی تفعل ہے بر وزن تصرف
اور مضارع یتفعل ہے بر وزن یتصرف
باب تفاعل کا مصدر ماضی اور مضارع بیان کرے
جواب
باب تفاعل کا مصدر التفاعل ہے بروزن التضارب
ماضی تفاعل ہے بر وزن تضارب
اور مضارع یتفاعل ہے بر وزن یتضارب
باب افعلال کا مصدر ماضی اور مضارع بیان کرے
جواب
باب افعلال کا مصدر افعلالا کے وزن پر ہے بروزن احمرارا
ماضی افعل ہے بر وزن احمر
اور مضارع یفعل ہے بر وزن یحمر
نوٹ ان پانچ بابوں کی ماضی میں دو حرف زیادہ ہے
باب استفعال کا مصدر ماضی اور مضارع بیان کرے
جواب
باب استفعال کا مصدر استفعالا کے وزن پر ہے بر وزن استخراجا
ماضی استفعل بر وزن استخرج
اور مضارع یستفعل بر وزن یستخرج
باب افعیلال کا مصدر ماضی اور مضارع بیان کرے
جواب
باب افعیلال کا مصدر افعیلالا کے وزن پر ہے بر وزن احمرارا
ماضی افعال بر وزن احمار
اور مضارع یفعال بر وزن یحمار
حاشیہ
مصدر وہ ہے جو دلالت کرے حدث پر یعنی فعل پر جیسے القتل یا حال پر جیسے حسن
اور مصدر کی تین قسمیں ہے 1مصدر اصلی 2مصدر میمی 3مصدر صناعی
1مصدر اصلی کی دو قسم ہے ایک فعل ثلاثی مجرد کا مصدر دو فعل ثلاثی مزید فیہ
2مصدر میمی یہ ہر فعل کے لیے ہے چاہے فعل ثلاثی مجرد ہو یا مزید فیہ ہو رباعی مجرد ہو یا رباعی مزید فیہ ہو اس کی وضاحت آگی آئے گی
3مصدر صناعی ھر وہ کلمہ جس میں مصدر کی معنی ہو یا مشددہ بڑھائی جائے اور آخر میں تا بڑھائی جائے
اسم مطلقا مصدر صناعی ہوتا ہے جیسے جاھل سے جاھلیۃ محصول سے محصولیۃ حیوان سے حیوانیۃ
ھدایہ سے ھدایۃ ایران سے ایرانیۃ
فعل رباعی کی علامت کیا ہے ان کو بیان کریں
جواب
باب فَعْلَلَۃٌ کی ماضی میں چار حروف ہوتے ہیں اور چاروں اصلی ہوتے ہیں، جیسے فَعْلَلَ بروزن دحرج
فعل رباعی بنانے کا طریقہ کیا ہے بیان کریں
جواب
رباعی کے مصدر سے زوائد کو حذف کر کے اسے فَعْلَلَ کے وزن پر لے آئیں۔ جیسے فَعْلَلَۃٌ سے فَعْلَلَ
فَعْلَلَۃٌ کی مصدر اور ماضی اور مضارع بیان کریں
جواب
اس کا مصدر فَعْلَلَۃٌ اور فِعْلالٌ کے وزن پر آتا ہے جیسے دحرجۃ و دحراج
ماضی فعلل کے وزن پر آتا ہے جیسے دحرج
اور مضارع یفعلل کے وزن پر آتا ہے جیسے یدحرج
رباعی مزید فیہ کے کتنے باب ہے بیان کریں مع ماضی اور مضارع
جواب
۔رباعی مزید فیہ کے تین ابواب ہیں:
(۱) تَفَعْلُل مصدر ہے
فعل ماضی تَفَعْلل ہے بر وزن تدحرج
مضارع یتَفَعْلل ہے بر وزن یتدحرج
(۲) اِفْعِللالٌ مصدر ہے بر وزن جیسے اقشعرارا
فعل ماضی اِفْعلل ہے بر وزن اقشعر
مضارع یفْعلل ہے بر وزن یقعشر
(۳) اِفْعِنْلالٌ مصدر ہے بر وزن احرنجاما
فعل ماضی افعنلل ہے بر وزن احرنجم
فعل مضارع یفعنلل یحرنجم
اسم کی کتنی قسم ہے بیان کریں
جواب
اسم١ کی دو قسم ہے مصدر٢ اور غیر مصدر
مصدر کی تعریف کریں
جواب
مصدر وہ ہے جس کی فارسی کی معنی کے آخر میں تا اور نون یا دال اور نون آئے جیسے القتل فارسی میں معنی کشتن
مصدر مشتق٣ ہے یا جامد٤ بیان کریں
جواب
مصدر مشتق ہے جیسے اس سے
فعل ماضی جیسے کرم
مضارع جیسے یکرم
امر جیسے اکرم (الف کسرہ سے)
نہی٥ جیسے لا یکرم (ر کسرہ سے)
اسم فاعل٦ جیسے کارم
اسم مفعول٧ جیسے مکروم (میم ضمہ سے)
اسم آلت جیسے مکرام (میم کسرہ سے اور کاف ساکن)
اسم زمان ومکان جیسے مکرم (میم ضمہ سے)نکلتے ہے
حاشیہ
١ اسم وہ کلمہ ہے جو اپنی مستقل معنی پر دلالت کرتا ہے اور تین زمانوں میں کسی ایک سے ملا ہوا نہیں ہوتا جیسے زید
٢ مصدر وہ جسے فعل یا شبھ فعل نکلتے ہو جیسے الضرب سے ضرب اور اکرام سے اکرم
مَصْدَرْ کی لغوی معنی
1۔ صادر ہونے کی جگہ ۔ نکلنے کی جگہ ۔ سرچشمہ ۔ جڑ ۔ بنیاد
2۔ پِھرنا ۔ پِھر آنے کی جگہ
3۔ سبب ۔ باعث
4۔ نحو میں وہ کلمہ جس سے فعل اور صیغے (صیغہ کی جمع) مشتق ہوں ۔
اردو میں مصدر کے آخر میں نا ہوتا ہے اور اس میں کوئی زمانہ نہیں پایا جاتا جیسے آنا لانا وغیرہ
٣ اسم مشتق اسم کی ایک قسم ہے۔ مشتق کے معنی ہیں نکلا ہوا یعنی ایسا اسم جو کسی مصدر سے نکلا ہو اسے اسم مشتق کہا جاتا ہے جیسے القرء سے قرء یعنی پڑھنا سے پڑھائی، پڑھے گا، پڑھتا ہے،
٤ اسم جامد اسم کی ایک قسم ہے۔ یہ ایسا اسم ہے جو نہ تو خود کسی اسم سے بنتا ہے اور نہ ہی کوئی اسم اس سے بن سکے جیسے رجل درھم
اور اردو میں میز وغیرہ الفاظ جامد ہے
٥ فعل نہی اس فعل کو کہتے ہیں جس میں کسی کام سے منع کیا جائے۔
نہی کے معنی روکنا یا منع کرنے کے ہیں۔
جیسے لایضرب یعنی نہ مارو
٦ اسم فاعل کام کرنے والے کو کہتے ہے جیسے کارم یعنی عزت کرنے والا
اور اصطلاح میں اسم فاعل اس کو کہتے ہیں کہ جس سے فعل نکلتا ہوں
اسم فاعل کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں
اسم فاعل مفرد
اسم فاعل مرکب
اسم فاعل قیاسی
اسم فاعل سماعی
٧ اسم مفعول ہمیشہ قاعدے کے مطابق مصدر سے بنتا ہے
جیسے عربی میں مفعول کے وزن پر آتا ہے : مظلوم، مخلوق، مکتوب وغیرہ
اصطلاح میں اسم مفعول اس کو کہتے ہیں کہ جس پر فعل واقع ہو جیسے مظلوم یعنی اس پر ظلم کیا گیا
فصل نمبر 11
فعل مضارع کی تعریف بیان کریں
جواب
فعل مضارع وہ فعل ہے جو زمانہ حال یااستقبال میں کسی کام کے ہونے پر دلالت کرے۔ جیسے یَضْرِبُ(مارتا ہے یا مارے گا وہ ایک مرد )۔
فعل مضارع معلوم بنانے کاطریقہ: بیان کریں
جواب
فعل مضارع فعل ماضی کے شروع میں حروف مضارع میں سے کوئی حرف لگاکر فاء کلمہ کو ساکن کرتے ہیں اور عین کلمہ پر باب کے مطابق حرکت(کبھی فتحہ کبھی کسرہ اور کبھی ضمہ )لاتے ہیں اور آخر میں رف دیتے ہیں ۔ جیسے فَعَلَ سے یَفْعَلُ ۔
حروف مضارع کتنے ہے ان کو بیان کریں
جواب
حرو ف مضارع چار ہیں (أ، ت، ی، ن)ان کا مجموعہ ”أَتَیْن”ہے اور ان کو ”علامات مضارع”اور” حروف أَتَیْن”بھی کہتے ہیں ۔
کیا علامات مضارع(حروف أَتَیْن)مختلف صیغوں میں مختلف ہوتی ہیں
جواب
علامات مضارع(حروف أَتَیْن)مختلف صیغوں میں مختلف ہوتی ہیں ، جن کی تفصیل درج ذیل ہے ۔
ہمزہ ( أ)۔۔۔۔۔۔صیغہ واحد متکلم کے شروع میں ہوتا ہے ۔ جیسے أَضْرِبُ
۔نون (ن)۔۔۔۔۔۔صیغہ جمع متکلم کے شروع میں ہوتا ہے ۔ جیسے نَضْرِبُ.
یاء (ی)۔۔۔۔۔۔چار صیغوں(تین مذکرغائب اور ایک جمع مؤنث غائب)کےشروع میں ہوتی ہے ۔ جیسے یَضْرِبُ، یَضْرِبَانِ، یَضْرِبُوْنَ، یَضْرِبْنَ۔
تاء(ت)۔۔۔۔۔۔ آٹھ صیغوں (دو واحد و تثنیہ مؤنث غائب اورچھ مذکرومؤنث حاضر)کے شروع میں ہوتی ہے ۔ جیسے تَضْرِبُ، تَضْرِبَانِ، تَضْرِبُ، تَضْرِبَانِ، تَضْرِبُوْنَ، تَضْرِبِیْنَ، تَضْرِبَانِ، تَضْرِبْنَ۔
کیا فعل مضارع کے آخری حرف پر ایک ہی اعراب ہوتا ہے یا مختلف ہوتا ہے
جواب
مضارع کے پانچ صیغوں (دوواحد مذکر غائب و حاضر،ایک واحد مؤنث غائب اوردو واحد و جمع متکلم )کے آخر میں رفع آتا ہے ۔ جیسے یَضْرِبُ، تَضْرِبُ، تَضْرِبُ، أَضْرِبُ، نَضْرِبُ۔
اور
مضارع کے سات صیغوں(دوجمع مذکر غائب و حاضر ،ایک واحد مؤنث حاضر،اورچاروں تثنیہ)کے آخرمیں نون اعرابی آتاہے،پہلے تینوں صیغوں میں مفتوح اور باقی چاروں میں مکسور ہوتاہے ۔ جیسے یَضْرِبُوْنَ، تَضْرِبُوْنَ، تَضْرِبِیْنَ، یَضْرِبَانِ، تَضْرِبَانِ، تَضْرِبَانِ، تَضْرِبَانِ۔
فعل مضارع فعل ماضی کے کونسی صیغے سے بنتا ہے
جواب
فعل ماضی کے واحد مذکر غائب کے صیغہ سے مضارع بنائیں گے تو مضارع معلوم واحد مذکر غائب کا صیغہ بنے گا۔ جیسے ضرب سے یَضْرِبُ
فعل مضارع مجھول بنانے کاطریقہ: بیان کریں
جواب
فعل ماضی سے فعل مضارع مجہول مثبت بنانے کے لیے علامت مضارع کو ضمہ اور عین کلمہ کو فتحہ دیتے ہیں اگر اس پر فتح نہ ہو تو۔ جیسے یَضْرِبُ سے یُضْرَبُ۔
فعل مضارع معلوم اور مجھول کو منفی بنانے کاطریقہ: بیان کریں
جواب
ان دونوں کو منفی بنانے کے لیے ان سے پہلے حرف نفی (مَایا لَا)بڑھا دیتے ہیں ۔جیسے یَضْرِبُ، یُضْرَبُ سے لَایَضْرِبُ، مَا یُضْرَبُ۔
فعل مضارع سے فقط حال کی معنی کب لے گے بیان کریں
جواب
فعل مضارع سے فقط حال کی معنی تب لے گے جب فعل مضارع کے صیغے پر لام مفتوح داخل ہوجائے
جیسے لَیَضْرِبُ
فعل مضارع سے فقط استقبال کی معنی کب لے گے بیان کریں
جواب
فعل مضارع سے فقط استقبال کی معنی تب لے گے جب فعل مضارع کے صیغے پر سوف یا سین داخل ہو جیسے سوف یَضْرِبُ سیَضْرِبُ
فصل 11
فعل ماضی کےنصرا اور نصروا کے صیغوں کی علامت کے حساب سے وضاحت کریں
جواب
نصرا میں الف تثنیہ مذکر کی علامت اور فائل کی ضمیر ہے
اور نصرو میں واؤ جمع مذکر کی علامت اور فائل کی ضمیر ہے
فعل ماضی کےنصرت اور نصرتا نصرن کے صیغوں کی علامت کے حساب سے وضاحت کریں
جواب
اتائے ساکن نصرت کے اندر تانیث کی علامت ہے اور فائل کی ضمیر نہیں ہے
نصرتا میں الف تثنیہ مؤنث کی علامت ہے اور فائل کی ضمیر ہے اور تا مؤنث کی علامت ہے
نصرن میں نون جمع مؤنث غائب کی علامت ہے اور فائل کی ضمیر ہے
فعل ماضی کے نصرت ( بفتح تا ) نصرت ( بکسر تا) اور نصرتما اور نصرتم کے صیغوں کی علامت کے حساب سے وضاحت کریں
جواب
نصرت ( بفتح تا ) میں تا واحد مذکر حاضر کی ضمیر اور فاعل ہے
نصرت ( بکسر تا) میں تا واحد مؤنث حاضر کی ضمیر اور فائل ہے
نصرتما میں تما کبھی تثنیہ مذکر حاضر کی ضمیر ہے اور کبھی تثنیہ مؤنث حاضر کی ضمیر اور فائل ہے
نصرتم میں ( تم) جمع مذکر حاضر کی ضمیر اور فائل ہے
نصرتن (بتشدید و رفع تا ) میں (تن ) جمع مؤنث حاضر کی ضمیر اور فائل ہے
فعل ماضی کے نصرت (بضمہ تا ) نصرنا کے صیغوں کی علامت کے حساب سے وضاحت کریں
جواب
نصرت (بضمہ تا ) میں تا واحد متکلم کی ضمیر چاھے مذکر چاھے مؤنث اور فائل ہے
نصرنا میں نا متکلم کی ضمیر ہے چاہے مذکر ہو چاہے مؤنث اور چاہے جمع ہو چاہے تثنیہ اور فائل ہے
فعل ماضی کا پہلا اور چوتھے صیغے کے فاعل کا کیا حکم ہے وضاحت کریں
جواب
نصر اور نصرت کا فائل کبھی ظاھر ہوتا ہے جیسے (نصر زید) اور( نصرھند)
فعل مضارع کے صیغے ینصر ینصران اور ینصرون میں کونسی علامات ہے بیان کریں
جواب
ینصر میں (یا) حرفِ استقبال اور غائب کی علامت ہے
ینصران میں بھی (یا) حرفِ استقبال اور غائب کی علامت ہے اور الف تثنیہ مذکر کی علامت ہے اور فائل کی ضمیر ہے اور نون اس رفع کے بدلے میں ہے جو کہ واحد مذکر غائب میں تھا (یعنی ینصر میں)
ینصرون میں بھی (یا) غائب کی علامت اور حرفِ استقبال ہے اور واؤ جمع مذکر کی ضمیر اور فائل ہے اور نون اس میں اس رفع کا بدلہ ہے جو کہ ینصر میں تھا اور ضمہ واؤ کی مناسبت کیلئے ہے
فعل مضارع کے صیغے تنصر اور تنصران اور ینصرن میں کونسی علامات ہے بیان کریں
جواب
تنصر اور تنصران میں تا غائب کی علامت اور حرفِ استقبال ہے اور الف تثنیہ مؤنث کی علامت اور فائل کی ضمیر ہے اور نون اس میں اس رفع کا بدلہ ہے جو کہ واحد مؤنث غائب میں تھا یعنی تنصر میں
ینصرن (بسکون را و فتح نون) میں یا حرفِ استقبال اور غائب کی علامت ہے اور نون جمع مؤنث غائب کی ضمیر اور فائل ہے
فعل مضارع کے صیغے تنصر تنصران اور تنصرون میں کونسی علامت ہے بیان کریں
جواب
تنصر حاضر میں تا حاضر کی علامت اور حرفِ استقبال ہے اور اس میں انت ضمیر ہمیشہ مستتر ہوتی ہے جو کہ فائل ہے
تنصران میں تا حاضر کی علامت اور اس میں الف تثنیہ مذکر کی علامت اور فائل کی ضمیر ہے اور نون اس رفع کا بدلہ ہے جو کہ تنصر میں تھا
تنصرون میں تا حاضر کی علامت اور حرفِ استقبال ہے اور واؤ جمع مذکر کی ضمیر ہے اور اس میں نون اس رفع کا بدلہ ہے جو کہ واحد مذکر حاضر میں تھا اور ضمہ واؤ کی مناسبت کیلئے ہے جیسا کہ ینصرون میں کھا گیا
فعل مضارع کے صیغے تنصرین تنصران تنصرن میں کونسی علامات ہے بیان کریں
جواب
تنصرین میں تا حاضر کی علامت ہے اور یا واحد مؤنث حاضر کی ضمیر ہے اور فائل ہے اور نون اس میں اس رفع کا بدلہ ہے جو کہ واحد مذکر حاضر میں تھا
تنصران حاضر میں تا حاضر کی علامت اور حرفِ استقبال ہے اور الف تثنیہ مؤنث کی علامت اور فائل ہے اور نون اس میں اس رفع کا بدلہ ہے جو کہ واحد مذکر میں تھا
تنصرن حاضر میں (بسکون را و فتح نون) تا حاضر کی علامت اور حرفِ استقبال ہے اور نون جمع مؤنث کی ضمیر اور فائل ہے
فعل مضارع کے صیغے انصر اور ننصر میں کونسی علامت ہے بیان کریں
جواب
انصر میں ھمزہ واحد متکلم کی علامت ہے اور ضمیر (نا) اس میں مستتر ہوتی ہے جو کہ فائل ہے
ننصر میں نون جمع متکلم کی علامت ہے چاہے مذکر ہو چاہے مؤنث اور چاہے جمع ہو چاہے تثنیہ ہو اور ضمیر (نحن) اس میں ہمیشہ مستتر ہوتی ہے اور فائل ہے
فعل مضارع کے صیغے ینصر اور تنصر کے فاعل کا حکم بیان کریں
جواب
فعل مضارع کے صیغے ینصر اور تنصر کا فائل کبھی ظاھر ہوتا ہے جیسے ، ینصر زید ، تنصر ھند ؟ اور کبھی مستتر ہوتا ہے جیسے (زید ینصر) ای ھو ؟( ھند تنصر) ای ھی ؟
فصل 12
فعل ماضی کےنصرا اور نصروا کے صیغوں کی علامت کے حساب سے وضاحت کریں
جواب
نصرا میں الف تثنیہ مذکر کی علامت اور فائل کی ضمیر ہے
اور نصرو میں واؤ جمع مذکر کی علامت اور فائل کی ضمیر ہے
فعل ماضی کےنصرت اور نصرتا نصرن کے صیغوں کی علامت کے حساب سے وضاحت کریں
جواب
تائے ساکن نصرت کے اندر تانیث کی علامت ہے اور فائل کی ضمیر نہیں ہے
نصرتا میں الف تثنیہ مؤنث کی علامت ہے اور فائل کی ضمیر ہے اور تا مؤنث کی علامت ہے
نصرن میں نون جمع مؤنث غائب کی علامت ہے اور فائل کی ضمیر ہے
فعل ماضی کے نصرت ( بفتح تا ) نصرت ( بکسر تا) اور نصرتما اور نصرتم کے صیغوں کی علامت کے حساب سے وضاحت کریں
جواب
نصرت ( بفتح تا ) میں تا واحد مذکر حاضر کی ضمیر اور فاعل ہے
نصرت ( بکسر تا) میں تا واحد مؤنث حاضر کی ضمیر اور فائل ہے
نصرتما میں تما کبھی تثنیہ مذکر حاضر کی ضمیر ہے اور کبھی تثنیہ مؤنث حاضر کی ضمیر اور فائل ہے
نصرتم میں ( تم) جمع مذکر حاضر کی ضمیر اور فائل ہے
نصرتن (بتشدید و رفع تا ) میں (تن ) جمع مؤنث حاضر کی ضمیر اور فائل ہے
فعل ماضی کے نصرت (بضمہ تا ) نصرنا کے صیغوں کی علامت کے حساب سے وضاحت کریں
جواب
نصرت (بضمہ تا ) میں تا واحد متکلم کی ضمیر چاھے مذکر چاھے مؤنث اور فائل ہے
نصرنا میں نا متکلم کی ضمیر ہے چاہے مذکر ہو چاہے مؤنث اور چاہے جمع ہو چاہے تثنیہ اور فائل ہے
فعل ماضی کا پہلا اور چوتھے صیغے کے فاعل کا کیا حکم ہے وضاحت کریں
جواب
نصر اور نصرت کا فائل کبھی ظاھر ہوتا ہے جیسے (نصر زید) اور( نصرھند)
فعل مضارع کے صیغے ینصر ینصران اور ینصرون میں کونسی علامات ہے بیان کریں
جواب
ینصر میں (یا) حرفِ استقبال اور غائب کی علامت ہے
ینصران میں بھی (یا) حرفِ استقبال اور غائب کی علامت ہے اور الف تثنیہ مذکر کی علامت ہے اور فائل کی ضمیر ہے اور نون اس رفع کے بدلے میں ہے جو کہ واحد مذکر غائب میں تھا (یعنی ینصر میں)
ینصرون میں بھی (یا) غائب کی علامت اور حرفِ استقبال ہے اور واؤ جمع مذکر کی ضمیر اور فائل ہے اور نون اس میں اس رفع کا بدلہ ہے جو کہ ینصر میں تھا اور ضمہ واؤ کی مناسبت کیلئے ہے
فعل مضارع کے صیغے تنصر اور تنصران اور ینصرن میں کونسی علامات ہے بیان کریں
جواب
تنصر اور تنصران میں تا غائب کی علامت اور حرفِ استقبال ہے اور الف تثنیہ مؤنث کی علامت اور فائل کی ضمیر ہے اور نون اس میں اس رفع کا بدلہ ہے جو کہ واحد مؤنث غائب میں تھا یعنی تنصر میں
ینصرن (بسکون را و فتح نون) میں یا حرفِ استقبال اور غائب کی علامت ہے اور نون جمع مؤنث غائب کی ضمیر اور فائل ہے
فعل مضارع کے صیغے تنصر تنصران اور تنصرون میں کونسی علامت ہے بیان کریں
جواب
تنصر حاضر میں تا حاضر کی علامت اور حرفِ استقبال ہے اور اس میں انت ضمیر ہمیشہ مستتر ہوتی ہے جو کہ فائل ہے
تنصران میں تا حاضر کی علامت اور اس میں الف تثنیہ مذکر کی علامت اور فائل کی ضمیر ہے اور نون اس رفع کا بدلہ ہے جو کہ تنصر میں تھا
تنصرون میں تا حاضر کی علامت اور حرفِ استقبال ہے اور واؤ جمع مذکر کی ضمیر ہے اور اس میں نون اس رفع کا بدلہ ہے جو کہ واحد مذکر حاضر میں تھا اور ضمہ واؤ کی مناسبت کیلئے ہے جیسا کہ ینصرون میں کھا گیا
فعل مضارع کے صیغے تنصرین تنصران تنصرن میں کونسی علامات ہے بیان کریں
جواب
تنصرین میں تا حاضر کی علامت ہے اور یا واحد مؤنث حاضر کی ضمیر ہے اور فائل ہے اور نون اس میں اس رفع کا بدلہ ہے جو کہ واحد مذکر حاضر میں تھا
تنصران حاضر میں تا حاضر کی علامت اور حرفِ استقبال ہے اور الف تثنیہ مؤنث کی علامت اور فائل ہے اور نون اس میں اس رفع کا بدلہ ہے جو کہ واحد مذکر میں تھا
تنصرن حاضر میں (بسکون را و فتح نون) تا حاضر کی علامت اور حرفِ استقبال ہے اور نون جمع مؤنث کی ضمیر اور فائل ہے
فعل مضارع کے صیغے انصر اور ننصر میں کونسی علامت ہے بیان کریں
جواب
انصر میں ھمزہ واحد متکلم کی علامت ہے اور ضمیر (نا) اس میں مستتر ہوتی ہے جو کہ فائل ہے
ننصر میں نون جمع متکلم کی علامت ہے چاہے مذکر ہو چاہے مؤنث اور چاہے جمع ہو چاہے تثنیہ ہو اور ضمیر (نحن) اس میں ہمیشہ مستتر ہوتی ہے اور فائل ہے
فعل مضارع کے صیغے ینصر اور تنصر کے فاعل کا حکم بیان کریں
جواب
فعل مضارع کے صیغے ینصر اور تنصر کا فائل کبھی ظاھر ہوتا ہے جیسے ، ینصر زید ، تنصر ھند ؟ اور کبھی مستتر ہوتا ہے جیسے (زید ینصر) ای ھو ؟( ھند تنصر) ای ھی ؟
فصل 14
تمام افعال کی کتنی قسمیں ہیں
جواب
تمام افعال کی دو قسمیں ہیں ،, لازم اور متعدی ،،
فعل لازم کی تعریف کریں
جواب
لازم وہ فعل ہے جو فاعل سے آگے نہ بڑھے اور مفعول بہ تک نہ پہنچے جیسے،، (ذھب زید) زید گیا
اور (قعد عمر) عمر بیٹھا
فعل متعدی کی تعریف کریں
جواب
متعدی وہ فعل ہے جو فاعل سے گزر جائے مفعول بہ تک پہنچ جائے جسے ( ضرب زید عمر) زید نے عمر کو مارا
فعل لازم کو متعدی بنانے کا کیا طریقہ ہے
جواب
فعل لازم کو افعال کے ھمزہ تفعیل کے عین کلمہ کی تضعیف یا حرفِ جر کے ساتھ متعدی بناتے ہیں جیسے (اذھبت زید) میں زید کو لے گیا ،، (فرحته) میں نے اس کو خوش کیا ،، ( ذھبت بزید) میں زید کو لے گیا ،، ( انطلقت به ) میں نے اس کو چلایا
فصل 15
جب فعل کو مفعول کیلئے بناتے ہیں ( یعنی جب فعل مجھول بناتے ہیں) تو ثلاثی مجرد کی ماضی میں فعل کے فا کلمے کو ضمہ دیتے ہیں اور اس کے عین کلمہ کو کسرہ جیسے ،، نُصِرَ اس کی مدد کی گئی۔نُصِرَا ان دو کی مدد کی گئی
ان سب کی مدد کی گئی۔ نُصِرُوْا آخر تک ؟
اور ،، ضرب ،، ضربا,،، ضربو ،، آخر تک ؟ اور علم ،، علما ،، علمو ،، آخر تک ؟ منع ،، منعا ،، منعو ،، آخر تک ،؟ حسب ،، حسبا ،، حسبو ،، آخر تک ؟ شرف ،، شرفا ،، شرفو ،، آخر تک ؟ اور افعال کے باب میں ھمزہ کو مضموم اور فعل کے عین کلمہ کو کسرہ کرتے ہیں جیسے ،، اکرم ،، اکرما ،، اکرمو ،، آخر تک ؟اور مفاعلہ کے باب میں بھی اسی طرح کرتے ہیں لیکن جب فا کلمہ مضموم ہو تو ( مفاعلہ کی) الف واو سے بدل جاتی ہے جیسے ،، ضورب ،، ضوربا ،، ضوربو ،، آخر تک
سلام بر امام زمانہ
السلام علیکم۔