کتاب سیوطی اول سالانہ امتحان 2022
ما و لا مشابہ بلیس کی بحث میں آیا ہے کہ
اعمال لیس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔أجاز العلما
سوال نمبر 1
ان دو اشعار کے مطالب کی مکمل وضاحت کیجئے اور انہیں مثالوں پر تطبیق کریں
جواب
مذکورہ شعر کے مطالب یہ ہے کہ
مَا اورلَا مبتدأ اور خبر پر داخل ہوتے ہیں اور مبتدأ کو رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں جیسے مَا زَیْدٌ قَائِماً،
لیکن کچھ شرائط کے ساتھ ان کا عمل باطل ہو جاتا ہے
1 مَااورلَا کی خبر اِن کے اسم سے پہلے آجائے۔ جیسے: مَا قَائِمٌ زَیْدٌ 2 ان کی خبر اِلاَّکے بعد واقع ہو۔ جیسے: وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ
3 مَااور اس کے اسم کے درمیان اِنْ زائدہ سے فاصلہ آجائے۔ جیسے: مَا اِنْ اَنْتُمْ ذَاہِبُوْنَ
اور اس طرح خبر کا معمول جو ظرف اور جار مجرور نہ ہو اسم مقدم ہو جائے تو عمل باطل ہو جائے گا جیسے ما طعامک زید آکل
لیکن اگر خبر کا معمول ظرف اور جار مجرور ہو تو اسم پر مقدم ہو سکتا ہے اس کو علماء نحو نے جائز قرار دیا ہے
معرب اور مبنی کے بحث میں آیا ہے کہ
و أی فعل آخر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حکما لازماً
سوال نمبر 2
فعل مضارع معتل کی تعریف کریں اور اس کے اعراب کو مثالوں کے ضمن میں مکمل طور بیان کریں
جواب
مضارع معتل وہ ہے کہ جس کی آخر میں حرف علت الف واؤ یاء ہو
اس کی تین قسم ہے
1 معتل الفی اس میں رفع و نصب تقدیری ہوتا ہے اور جزم حذف لام کے ساتھ ہوتا ہے
جیسے: ہُوَ یَسعَی، لَنْ یَسْعَی، لَمْ یَسْعَ۔
2 اور 3, معتل واوی اور یائی ان میں رفع تقدیری ہوتا ہے اور نصب فتح کے ساتھ اور جزم حذف آخر کے ساتھ جیسے یدعو لَنْ یَرمِيَ َوَیَغزُوَ، لَمْ یرمِ وَیَغزُ۔
یہ حذف والا آخری حکم لازم قرار دیا گیا ہے
حرف جارہ کے باب میں آیا ہے کہ
بعض وبین۔۔۔۔۔۔۔ الازمنۃ
سوال نمبر 3
مندرجہ بالا شعر کو مدنظر رکھتے ہوئے بتائیں من کن معانی کے لیے آتا ہے انہیں تحریر کریں اور ھر ایک کے ایک مثال ذکر کریں
جواب
من پانچ معانی کے لیے آتا ہے
1,, من تبعیض جنس کے لیے آتا ہے جیسے لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ
2 من بیان جنس کے لیے آتا ہے جیسے فَاجۡتَنِبُوا الرِّجۡسَ مِنَ الۡاَوۡثَانِ
3 من ابتدائی زمان کے لیے آتا ہے جیسے لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقۡوٰی مِنۡ اَوَّلِ یَوۡمٍ
4 من زائدہ ہوتا ہے جیسے ہَلۡ مِنۡ خَالِقٍ
5 من ابتدائی مکان کے لیے آتا ہے جیسے سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ
باب موصولات میں آیا ہے کہ
و کلھا یلزم ۔۔۔۔۔۔۔ الافعال آل
سوال نمبر 4
مندرجہ بالا دو اشعار کی مکمل وضاحت کیجئے اور بتائیے ضمیر لائق سے کیا مراد ہے صفۃ صریح کونسی صفت ہے نیز معرب الافعال سے کونسا فعل مراد ہے
جواب
اس شعر میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ
موصول کے بعد ایک جملہ صلہ کا ہونا ضروری ہے اور صلہ میں ایک ضمیر کا ہونا بھی ضروری ہے کہ جو موصول کی طرف لوٹے کہ جس کو عائد کہتے ہیں اور صلہ ہمیشہ جملہ ہوتا ہے یا شبہ جملہ یعنی ظرف اور جار ومجرور جیسے من عندي الذي ابنه کفل
اور ال کا صلہ ایک ایسی صفت ہوتی ہے کہ جس پر اسمیت غالب نہ ہو مثلاً صفت صریح جیسے العالم والمحبوب و الحسن
اور کبھی فعل مضارع بھی اس کا صلہ واقع ہو سکتا ہے
اور ضمیر لائق سے مراد عائد ہے
اور صفت صریح سے مراد خالصا صفت ہے جیسے اسم فاعل اور مفعول
اور معرب الافعال سے مراد فعل مضارع ہے
سوال نمبر 5
2019 میں گزر چکا ہے
نوٹ
_یہ 2017 کے تجدیدی امتحانات کی کاپی ہے_
سلام بر امام زمانہ
السلام علیکم۔