کتاب لمعہ اول سالانہ سوال وجواب 2018
رکوع کی بحث میں فرماتے ہیں:
(و) الذكر الواجب هو سبحان ربي العظيم وبحمده۔۔۔۔۔بخلاف ما لو قيدناه
سوال نمبر
عبارت میں مذکور مسئلہ کو بیان کیجئے۔۔ اس میں دو قول کونسے ہیں؟ شہید ثانی کی نظر میں قول اقویٰ کیا ہے؟ اسکی دلیل کیا ہے؟ مکمل وضاحت کیجئے۔
جواب
مذکورہ عبارت میں مسئلہ یہ ہے کہ حالت رکوع میں واجب ہے ایک دفعہ ذکر کہے یا تین مرتبہ کہے: سبحان اللہ ۔یا کوئی بھی ذکر پڑھ سکتا ہے اس میں پہلا یہی قول ہے دوسرا قول یہ ہے کہ بعض علماء کے نزدیک مطلق ذکر کافی ہے خواہ مختار ہو یا مضطر ہو اور یہی قول شارح ؒکے نزدیک اقویٰ ہے۔اس کی دلیل: اخبار صحیحہ اسی پر دلالت کرتی ہیں ۔
سوال نمبر 4
٤عبارت" و ما ورد ... ایک اشکال مقدر کا جواب ہے؟ اس اشکال اور جواب کو مکمل اور واضح طور پر بیان کیجئے۔
جواب
مذکورہ عبارت میں اشکال یہ ہے کہ جن روایات میں رکوع کے ذکر کو معین کیا گیا ہے آیا وہ مطلق ذکر والی روایات کے درمیان مخالفت اور نفی نہیں ہے اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جن روایات میں رکوع کے ذکر کو معین کیا گیا ہے وہ ان صحیح روایات کے مخالف نہیں کیونکہ وہ واجب کلی کے تخییری افراد میں سے بعض کو بیان کیا گیا ہے،
سوال نمبر 5
عبارت" و به يحصل " میں کیا کہنا چاہتے ہیں؟ مکمل وضاحت کیجئے۔
جواب
عبارت" و به يحصل " میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس طرح روایات کے درمیان جمع ہو سکتی ہے کہ کہے یا واجب کلی کے بعض افراد ہیں لیکن اگر ہم رکوع کے ذکر کو معین کر دیں تو روایات کے درمیان جمع نہ ہوگی،
احکام بئر کی بحث میں فرماتے ہیں: و يطهر البئر بنزح جميعه للبعير ..... و دم الحدث۔۔۔۔۔لما لا نص فيه يشملهما.
سوال نمبر 6
عبارت میں مذکور مسئلہ کو بیان کیجئے ۔ عبارت و لم يذكر " میں کیا کہنا چاہتے ہیں؟ عبارت " و ایجاب الجميع .. ایک اشکال کا جواب ہے اس اشکال اور جواب کو مکمل اور واضح طور پر بیان کیجئے
جواب
عبارت میں مذکور مسئلہ یہ ہے کہ اونٹ – بیل – شراب – تین خونوں میں سے کوئی ایک – فقاع – مسکر المائع ان سب کے لیے سارا پانی نکالا جائے گا
عبارت لم یذکر ھنا۔۔۔۔ میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مصنف نے لمعہ میں اس حیوان کی منی کے حکم کو ذکر نہیں کیا جو خون جہندہ رکھتا ہو اور مشہور کا فتویٰ ہے کہ منی میں بھی نزح جمیع ہے یہ بات خود مصنف نے اپنے کتاب دروس اور بیان میں بھی قطعی طور پر کہی ہے اور کتاب ذکری میں اعتراف کیا ہے کہ نص نہ ہونے کے سبب مصنف نے لمعہ میں منی کے حکم کو ذکر نہیں کیا ہے لیکن شارح اشکال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دم حدث بھی تو منی کی طرح ہے یعنی اس کے لیے بھی کوئی روایت نہیں ہے تو حدث کو تنہا ذکر کرنے پر کوئی دلیل نہیں ہے
عبارت میں و ایجاب الجمیع ۔۔۔۔۔ میں ایک اشکال یا توھم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہنا چاہیے کہ مصنف نے ۔ دَمُ الحدث کو شہرت کی وجہ سے ذکر نہیں کیا بلکہ اس وجہ سے ذکر کیا ہے کہ یہ ۔ مَا لَا نَص فِيه میں داخل ہے۔ (یعنی وہ نجس کہ جس کے بارے میں روایات میں
کوئی خاص مقدار ذکر نہیں ہوئی ) ۔ اور مَا لا نَصَّ فيه میں تین قول ہیں (1) تمام پانی نکالنا 2) چالیس ڈول نکالنا(3) تیس ڈول نکالنا۔مصنف نے مَا لا نَص فِيه- میں قول اول کو اختیار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ دم الحدث کیلئے تمام پانی نکالا جائے۔ اس کے جواب میں شارح صاحب کہتے ہیں کہ یہ دلیل اشکال کو دور نہیں کر سکتی کیونکہ روایت میں منی کے لئے بھی کوئی مخصوص مقدار معین نہیں ہوئی ہے۔ پس منی بھی مالا نصَّ فيه میں داخل ہے لہذا اسے بھی بیان کرنا چاہیے تھا۔
تیمم کی بحث میں فرماتے ہیں: و يستحب من العوالي و هي ما ارتفع من الأرض للنص و البعدها من النجاسة، لأن المهابط تقصد للحدث، و منه سمى الغائط لأن أصله المنخفض، سمّى الحال باسمه لوقوعه فيه كثيرا.
سوال نمبر 9
عبارت میں مذکور مسئلہ اور اس کی دو دلیلوں کی مکمل وضاحت کیجئے اور بتائیے غائط کو غائط کیوں کہتے ہیں
جواب
عبارت میں مذکور مسئلہ یہ ہے کہ مستحب ہے کہ تیمم کرنا زمین کے بلند مقام والی مٹی پر اس کی دو دلیلیں ہیں ایک روایت ہے دوسرا یہ ہے کہ زمین کے بلند مقامات دور ہوتے ہیں نجاست سے کیونکہ عام طور پر رفع حاجت کے لیے پست مقامات کا قصد کیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے غائط کو غائط کہتے ہیں کیونکہ غائط کا لغوی معنی ہے پست جگہ اور نام رکھا گیا ہے حال (نجاست) کا غائط کے ساتھ کیونکہ واقع ہوتا ہے حال ( نجاست ( پست مقام ) میں اکثر اوقات ۔
السلام علیکم۔